ہو چکا وعظ کا اثر واعظ

بہرام جی

ہو چکا وعظ کا اثر واعظ

بہرام جی

MORE BYبہرام جی

    ہو چکا وعظ کا اثر واعظ

    اب تو رندوں سے در گزر واعظ

    صبح دم ہم سے تو نہ کر تکرار

    ہے ہمیں پہلے درد سر واعظ

    بزم رنداں میں ہو اگر شامل

    پھر تجھے کچھ نہیں خطر واعظ

    وعظ اپنا یہ بھول جائے تو

    آوے گر یار سیم بر واعظ

    ہے یہ مرغ سحر سے بھی فائق

    صبح اٹھتا ہے پیشتر واعظ

    مسجد و کعبہ میں تو پھرتا ہے

    کوئے جاناں سے بے خبر واعظ

    شور و غل بند تو نہیں کرتا

    ہے تو انساں کہ کوئی خر واعظ

    ظاہری وعظ سے ہے کیا حاصل

    اپنے باطن کو صاف کر واعظ

    بندۂ کوئے یار ہے بہرامؔ

    تیری مسجد سے کیا خبر واعظ

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY