ہو چکی اب شاعری لفظوں کا دفتر باندھ لو

حمایت علی شاعر

ہو چکی اب شاعری لفظوں کا دفتر باندھ لو

حمایت علی شاعر

MORE BYحمایت علی شاعر

    ہو چکی اب شاعری لفظوں کا دفتر باندھ لو

    تنگ ہو جائے زمیں تو اپنا بستر باندھ لو

    دوش پر ایمان کی گٹھری ہو سر ہو یا نہ ہو

    پیٹ خالی ہیں تو کیا پیٹوں پہ پتھر باندھ لو

    عافیت چاہو تو جھک جاؤ سر پا پوش وقت

    پھر یہ دستار فضیلت اپنے سر پر باندھ لو

    قاضی الحاجات سے اک عہد باندھا تھا تو کیا

    اب فقیہ شہر سے عہد مکرر باندھ لو

    آشیانوں میں چھپے بیٹھے ہیں سب شاہین و زاغ

    تم بھی شاعرؔ طائر تخئیل کے پر باندھ لو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے