ہو گئے ناکام تو پچھتائیں کیا

کیف احمد صدیقی

ہو گئے ناکام تو پچھتائیں کیا

کیف احمد صدیقی

MORE BYکیف احمد صدیقی

    ہو گئے ناکام تو پچھتائیں کیا

    دوستوں کے سامنے شرمائیں کیا

    ہو رہے ہیں فیل ہم دو سال سے

    گھر میں جا کر اپنا منہ دکھلائیں کیا

    جب کسی صورت نہیں اس سے مفر

    امتحاں کے نام سے گھبرائیں کیا

    یاد کر لیں آج تھوڑا سا سبق

    ماسٹر صاحب کے ڈنڈے کھائیں کیا

    جب گرو جی خود نہیں سمجھے سوال

    اپنے شاگردوں کو وہ سمجھائیں کیا

    پڑھ نہیں سکتے تو شیطانی کریں

    آ گئے اسکول میں تو جائیں کیا

    آؤ ہم آپس میں کچھ جھگڑا کریں

    کھیل سے اب اپنا دل بہلائیں کیا

    پوچھتے ہیں ماسٹر ہم کون ہیں

    کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

    جب کہیں ذوق سخن فہمی نہیں

    کیفؔ صاحب کی غزل ہم گائیں کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY