ہو گئے سارے بام و در تقسیم

شہاب الدین ثاقب

ہو گئے سارے بام و در تقسیم

شہاب الدین ثاقب

MORE BYشہاب الدین ثاقب

    ہو گئے سارے بام و در تقسیم

    کس طرح ہو گیا یہ گھر تقسیم

    باغ میں اب رہا ہے کیا باقی

    ہو چکے سارے جب ثمر تقسیم

    کس قدر مطمئن ہے وہ سردار

    کر کے سب اپنا درد سر تقسیم

    تھا مرے پاس جو بھی سرمایہ

    ہو گیا سب ادھر ادھر تقسیم

    چاک پر رکھ کے میری مٹی کو

    کر رہا ہے وہ کوزہ گر تقسیم

    اب سمندر میں اشتعال کہاں

    رفتہ رفتہ ہوئے بھنور تقسیم

    دشمنی خود ہی مول لی ہم نے

    دوستوں میں کیا ہنر تقسیم

    آگ سے کیا بچیں گے گھر ان کے

    کرتے پھرتے ہیں جو شرر تقسیم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے