ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبت

تاباں عبد الحی

ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبت

تاباں عبد الحی

MORE BYتاباں عبد الحی

    ہو روح کے تئیں جسم سے کس طرح محبت

    طائر کو قفس سے بھی کہیں ہو ہے محبت

    گو ظل ہما مت ہو رہے سر پہ ہمارے

    تا حشر تیرا سایۂ دیوار سلامت

    اطوار ترے باعث آفات جہاں ہیں

    آثار ترے ہیں گے سب آثار قیامت

    صیاد نہ اب بے پر و بالوں کو تو اب چھوڑ

    پھر حسرت گل دے گی ہمیں سخت اذیت

    اسباب جہاں کی تو دلا فکر نہ کر تو

    حاصل نہیں کچھ اس میں بجز رنج و مشقت

    چھوڑوں گا نہ میں تجھ کو ترے خط کے بھی آئے

    تو تب بھی نہ ہو یار تو یہ بھی مری قسمت

    تاباںؔ تو سدا سیر ہر اک گل کی کیا کر

    اس گلشن ہستی کا نظارا ہے غنیمت

    مأخذ :
    • Deewan-e-Taban Rekhta Website)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY