ہونٹوں کو پھول آنکھ کو بادہ نہیں کہا

عاصم واسطی

ہونٹوں کو پھول آنکھ کو بادہ نہیں کہا

عاصم واسطی

MORE BYعاصم واسطی

    ہونٹوں کو پھول آنکھ کو بادہ نہیں کہا

    تجھ کو تری ادا سے زیادہ نہیں کہا

    برتا گیا ہوں صرف کسی سیر کی طرح

    تونے مجھے سفر کا ارادہ نہیں کہا

    کہتا تو ہوں تجھے میں گل خوش نما مگر

    خوش رنگ موسموں کا لبادہ نہیں کہا

    رہتے ہیں صرف تنگ نظر لوگ جس جگہ

    اس شہر بیکراں کو کشادہ نہیں کہا

    باندھا ہر اک خیال بڑی سادگی کے ساتھ

    لیکن کوئی خیال بھی سادہ نہیں کہا

    میری بساط پر تو سبھی بادشاہ ہیں

    میں نے کبھی کسی کو پیادہ نہیں کہا

    وہ آسماں مزاج مسافر ہوں آج تک

    میں نے تری زمین کو جادہ نہیں کہا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY