ہوتے ہی جواں ہو گئے پابند حجاب اور

سائل دہلوی

ہوتے ہی جواں ہو گئے پابند حجاب اور

سائل دہلوی

MORE BYسائل دہلوی

    ہوتے ہی جواں ہو گئے پابند حجاب اور

    گھونگھٹ کا اضافہ ہوا بالائے نقاب اور

    جب میں نے کہا کم کرو آئین حجاب اور

    فرمایا بڑھا دوں گا ابھی ایک نقاب اور

    پینے کی شراب اور جوانی کی شراب اور

    ہشیار کے خواب اور ہیں مدہوش کے خواب اور

    گردن بھی جھکی رہتی ہے کرتے بھی نہیں بات

    دستور حجاب اور ہیں انداز حجاب اور

    پانی میں شکر گھول کے پیتا تو ہے اے شیخ

    خاطر سے ملا دے مری دو گھونٹ شراب اور

    ساقی کے قدم لے کے کہے جاتا ہے یہ شیخ

    تھوڑی سی شراب اور دے تھوڑی سی شراب اور

    سائلؔ نے سوال اس سے کیا جب بھی یہ دیکھا

    ملتا نہیں گالی کے سوا کوئی جواب اور

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY