ہوئے آج بوڑھے جوانی میں کیا تھے

مرزا محمد تقی ہوسؔ

ہوئے آج بوڑھے جوانی میں کیا تھے

مرزا محمد تقی ہوسؔ

MORE BYمرزا محمد تقی ہوسؔ

    ہوئے آج بوڑھے جوانی میں کیا تھے

    جب اٹھے تھے زانو سے ہاتھ آشنا تھے

    جہاں کی تو ہر چیز میں اک مزہ تھا

    نہ سمجھے کہ کس شے کے ہم مبتلا تھے

    نہ کافر سے خلعت نہ زاہد سے الفت

    ہم اک بزم میں تھے پہ سب سے جدا تھے

    نہ تھا میرے جنگل میں آزاد کوئی

    بگولے بھی پابند زلف ہوا تھے

    مزار غریب تأسف کی جا ہے

    وہ سوتے ہیں پھرتے جو کل جا بہ جا تھے

    بنا کر بگاڑا ہمیں کیوں جہاں میں

    یہ سب حرف کیا سہو کلک قضا تھے

    کئے آخری نالہ دو چار میں نے

    وہی نالہ بانگ شکست درا تھے

    خدا جانے دنیا میں کس کو تھی راحت

    ہوسؔ ہم تو جینے سے اپنے خفا تھے

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Usne Chhedi(2) (Pg. 135)
    • Author : Farhat Ehsas
    • مطبع : Rekhta Books (2017)
    • اشاعت : 2017

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY