ہوئے ہیں گم جس کی جستجو میں اسی کی ہم جستجو کریں گے

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

ہوئے ہیں گم جس کی جستجو میں اسی کی ہم جستجو کریں گے

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

MORE BYوحشتؔ رضا علی کلکتوی

    ہوئے ہیں گم جس کی جستجو میں اسی کی ہم جستجو کریں گے

    رکھا ہے محروم جس نے ہم کو اسی کی ہم آرزو کریں گے

    گئے وہ دن جب کہ اس چمن میں ہوائے نشو و نما تھی ہم کو

    خزاں کو دیکھا نہیں ہے ہم نے کہ خواہش رنگ و بو کریں گے

    حکایت آرزو ہے نازک زبان کیا خاک کہہ سکے گی

    لب خموش و نگاہ حسرت سے دل کی ہم گفتگو کریں گے

    جگہ جو آنکھوں میں میں نے دی تھی تو ان سے تھی چشم راز داری

    یہ کیا خبر تھی کہ اشک میرے مجھی کو بے آبرو کریں گے

    ابھی تو گم کردہ راہ خود ہیں مئے محبت کی بے خودی میں

    اگر کبھی آپ میں ہم آئے تو اس کی بھی جستجو کریں گے

    اس انجمن میں کہ چشم ساقی کفیل ہو عیش زندگی کی

    وہ بادہ خواری میں خام ہوں گے جو فکر جام و سبو کریں گے

    طہارت‌ ظاہری سے حاصل نہ ہو سکے گی صفائے باطن

    بہا کے ہم خون توبہ وحشتؔ اسی سے اک دن وضو کریں گے

    مآخذ:

    • کتاب : Noquush (Pg. B-336 E342)
    • مطبع : Nuqoosh Press Lahore (May June 1954)
    • اشاعت : May June 1954

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY