ہوئے رونے سے مرے دیدۂ بے دار سفید

امام بخش ناسخ

ہوئے رونے سے مرے دیدۂ بے دار سفید

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    ہوئے رونے سے مرے دیدۂ بے دار سفید

    بلکہ اشکوں نے کیا رنگ شب تار سفید

    آنکھیں خوش چشموں کی تجھ پر ہوئیں اے یار سفید

    جس طرح ضعف سے ہو چہرۂ بیمار سفید

    ہو گیا ضعف سے میرا بدن زار سفید

    نظر آتا ہے صنم صورت زنار سفید

    ہے فقط عالم بالا سے مدد مستوں کی

    کون جز ماہ کرے خانۂ خمار سفید

    گلعذاروں کی جو محفل میں گیا وہ گل تر

    ہو گئے زرد جو دو چار تو دو چار سفید

    تو وہ یوسف ہے کہ اب منتظری میں اے جان

    مثل یعقوب ہوئی چشم خریدار سفید

    دود داغ سر سودا زدہ کرتا ہے سیاہ

    اے جنوں ہم کبھی رکھتے ہیں جو دستار سفید

    روشن اے ماہ کیا تو نے سیہ خانہ مرا

    تیرے جلوے سے ہوئے ہیں در و دیوار سفید

    واہ کیا رنگ حنا ہے کہ تری چٹکی سے

    سرخ ہو جائے اگر ہو لب سوفار سفید

    شاید ان کو نہیں اندر کی سیاہی کی خبر

    کر رہے ہیں جو مری قبر کو معمار سفید

    اڑ گیا رنگ شقائق ترے آگے جس دم

    لوگ سمجھے کہ ہوا برف سے کہسار سفید

    نقرئی پٹھے کا ڈالا نہیں تو نے موباف

    ہے سیہ سارا بدن اور دم مار سفید

    وصف لکھے جو ترے گورے بدن کے میں نے

    ہو گئی زاغ قلم کی وہیں منقار سفید

    شمع کافور سے تشبیہ بھلا دوں کیوں کر

    ہے برنگ مہ تاباں بدن یار سفید

    بعد اک عمر کے ناسخؔ کی جو اب آمد ہے

    لکھنؤ کے ہوئے سب کوچہ و بازار سفید

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY