حسن آنکھوں میں رہے دل میں جوانی تو رہے

جعفر شیرازی

حسن آنکھوں میں رہے دل میں جوانی تو رہے

جعفر شیرازی

MORE BYجعفر شیرازی

    حسن آنکھوں میں رہے دل میں جوانی تو رہے

    زندگانی تیرے ہونے کی نشانی تو رہے

    اس کی خاطر تو گوارا کوئی بن باس بھی ہے

    سب کے ہونٹوں پہ مری رام کہانی تو رہے

    ضبط میں یہ بھی ہے گویائی کا اپنا انداز

    لب ہوں خاموش مگر اشک فشانی تو رہے

    گر اجالوں سے گریزاں ہے دھندلکوں میں تو آ

    دن بہ ہر طور کٹا شام سہانی تو رہے

    تو نہ شیریں نہ میں فرہاد مگر یوں تو ملیں

    ہم رہیں یا نہ رہیں اپنی کہانی تو رہے

    آؤ کچھ دیر کریں پہلے پہل کی باتیں

    یاد اس پیار کی وہ رسم پرانی تو رہے

    تیری آنکھیں تو بنیں خشک جزیرے جعفرؔ

    یہ جو دریا ہیں تو دریاؤں میں پانی تو رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY