حسن فانی ہے جوانی کے فسانے تک ہے

ممتاز گورمانی

حسن فانی ہے جوانی کے فسانے تک ہے

ممتاز گورمانی

MORE BY ممتاز گورمانی

    حسن فانی ہے جوانی کے فسانے تک ہے

    پر یہ کمبخت محبت تو زمانے تک ہے

    وہ ملے گا تو شناسائی دلوں تک ہوگی

    اجنبیت تو فقط سامنے آنے تک ہے

    دشت میں پاؤں دھرا تھا کبھی وحشت کے بغیر

    اب وہی ریت مرے آئینہ خانے تک ہے

    شاعری پیروں فقیروں کا وظیفہ تھا کبھی

    اب تو یہ کام فقط نام کمانے تک ہے

    چاند گردوں کو میسر ہے سحر ہونے تک

    رقص درویش ترے بام پہ آنے تک ہے

    میں محمد کے غلاموں کا غلام ابن غلام

    ایسے نسبت اسی پاکیزہ گھرانے تک ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY