حسن کے وسوسے سے باہر مل

عمران راہب

حسن کے وسوسے سے باہر مل

عمران راہب

MORE BY عمران راہب

    حسن کے وسوسے سے باہر مل

    تو مجھے آئنے سے باہر مل

    رکھ بھرم کچھ تو بے لباسی کا

    شرم کے دائرے سے باہر مل

    ماورا نظم کی ہو بندش سے

    تو مجھے قافیے سے باہر مل

    وجد کی کیفیت میں چھو مجھ کو

    ہوش کے دائرے سے باہر مل

    پیار کے راگ راگ رہنے دے

    عشق کے فلسفے سے باہر مل

    ابر کی جھونپڑی سے باہر آ

    ریت کے قافلے سے باہر مل

    کھول نہ طاقچے کو عجلت میں

    چین سے حوصلے سے باہر مل

    خواب کی بارگہہ میں حاضر ہو

    نیند کے زاویے سے باہر مل

    کھینچ لے وقت کی طنابوں کو

    جسم کے فاصلے سے باہر مل

    کیا کہا جسم نوچنا ہے تجھے

    شام کے حاشیے سے باہر مل

    خاک پر پھینک دے انگوٹھی کو

    گھر کے اس فیصلے سے باہر مل

    دیکھ جا ہجر کی مصیبت میں

    وصل کے حادثے سے باہر مل

    بے خطر ہاتھ تھام راہبؔ کا

    خوف کے سلسلے سے باہر مل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY