افشا ہوئے اسرار جنوں جامہ دری سے

امداد علی بحر

افشا ہوئے اسرار جنوں جامہ دری سے

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    افشا ہوئے اسرار جنوں جامہ دری سے

    چھاپے گئے اخبار مری بے خبری سے

    دم ناک میں آیا ہے اب اس نوحہ گری سے

    دل پک گیا اے آہ تری بے اثری سے

    کیا دن ہیں جو گل کھلتے ہیں شعلے ہیں دہکتے

    لو چلتی ہے باغوں میں نسیم سحری سے

    سونے کے نوالوں سے نہ کر پرورش روح

    اتنی بھی محبت نہیں کرتے سفری سے

    کب اہل دول سے ہوئی معبود پرستی

    باطل ہے اگر سجدہ کریں تاج زری سے

    ہر حال میں رہتی ہے خدا پر نظر اپنی

    یہ مرتبہ حاصل ہے ہمیں بے ہنری سے

    مغرور نہ ہو چاند سے رخسار پر اپنے

    یہ قمقمہ روشن ہے چراغ سحری سے

    تو وہ ہے شہ حسن اگر باج طلب ہو

    لے حور سے گلدستہ طبق شاہ پری سے

    منہ چڑھتے ہیں بد اصل تمیز ان کو نہیں ہے

    دانتوں سے لڑی سلک گہر بد گہری سے

    آنکھوں سے نکلوایے آنکھیں ہرنوں کی

    چیتوں کی کمر توڑیئے نازک کمری سے

    نوبت تو کہیں قتل گناہ گار کی آئی

    نقارے بجاؤں گا میں تیروں کی سری سے

    پشت لب شفاف سے جوبن ہے مسوں کا

    سبزے نے نمو کی ہے عقیق شجری سے

    پیری میں بھی ہم سے نہ ہوئی خانہ نشینی

    باز آئے نہ بزموں سے نہ گزرے گزری سے

    قد تیر سا تلوار تواضع سے ہوا ہے

    وہ ہاتھ اٹھاتے نہیں بے داد گری سے

    جب چاہو چلے آؤ یہ وعدہ نہیں اچھا

    دل آنکھ چراتا ہے بہت منتظری سے

    اب ضعف جنوں کوچۂ جاناں میں بہا دے

    کب تک یہ ورم پاؤں پر آشفتہ سری سے

    وہ چوٹ کلیجے میں لگی ہے کہ نہ پوچھو

    تڑپوں گا تہ خاک بھی درد جگری سے

    رونے کا نہ لے نام غم یار میں اے بحرؔ

    الٹے نہ زمانے کا ورق لب کی تری سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY