اک بار ہی جی بھر کے سزا کیوں نہیں دیتے

مرتضیٰ برلاس

اک بار ہی جی بھر کے سزا کیوں نہیں دیتے

مرتضیٰ برلاس

MORE BYمرتضیٰ برلاس

    اک بار ہی جی بھر کے سزا کیوں نہیں دیتے

    گر حرف غلط ہوں تو مٹا کیوں نہیں دیتے

    ایسے ہی اگر مونس و غم خوار ہو میرے

    یارو مجھے مرنے کی دعا کیوں نہیں دیتے

    اب شدت غم سے مرا دم گھٹنے لگا ہے

    تم ریشمی زلفوں کی ہوا کیوں نہیں دیتے

    فردا کے دھندلکوں میں مجھے ڈھونڈنے والو

    ماضی کے دریچوں سے صدا کیوں نہیں دیتے

    موتی ہوں تو پھر سوزن مژگاں سے پرو لو

    آنسو ہو تو دامن پہ گرا کیوں نہیں دیتے

    سایہ ہوں تو پھر ساتھ نہ رکھنے کا سبب کیا

    پتھر ہوں تو رستہ سے ہٹا کیوں نہیں دیتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY