اک بار مل کے پھر نہ کبھی عمر بھر ملے

مخمور سعیدی

اک بار مل کے پھر نہ کبھی عمر بھر ملے

مخمور سعیدی

MORE BYمخمور سعیدی

    اک بار مل کے پھر نہ کبھی عمر بھر ملے

    دو اجنبی تھے ہم جو سر رہ گزر ملے

    کچھ منزلوں کے خواب تھے کچھ راستوں کے دھول

    نکلے سفر پہ ہم تو یہی ہم سفر ملے

    یوں اپنی سرسری سی ملاقات خود سے تھی

    جیسے کسی سے کوئی سر رہ گزر ملے

    اک شخص کھو گیا ہے جو رستے کی بھیڑ میں

    اس کا پتہ چلے تو کچھ اپنی خبر ملے

    اپنے سفر میں یوں تو اکیلا ہوں میں مگر

    سایہ سا ایک راہ کے ہر موڑ پر ملے

    برسوں میں گھر ہم آئے تو بیگانہ وار آج

    ہم سے خود اپنے گھر کے ہی دیوار و در ملے

    مخمورؔ ہم بھی رقص کریں موج گل کے ساتھ

    کھل کر جو ہم سے موسم دیوانہ گر ملے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY