اک دھواں اٹھ رہا ہے آنگن سے

رفیق راز

اک دھواں اٹھ رہا ہے آنگن سے

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    اک دھواں اٹھ رہا ہے آنگن سے

    ہیں ابھی کچھ چراغ روشن سے

    اس میں شامل ہے بوئے افلاکی

    یہ ہوا آ رہی ہے کس بن سے

    دینے آیا ہوں فتح کا مژدہ

    بھاگ آیا نہیں ہوں میں رن سے

    منزلوں کی بھی آرزو ہے بہت

    ڈر بھی لگتا ہے مجھ کو رن بن سے

    اب بھی کیا رات کے اندھیرے میں

    شعلہ اٹھتا ہے گلشن تن سے

    سرخ رو عشق کی بدولت ہوں

    کہ میں اس آگ میں ہوں بچپن سے

    یہ زمانہ ہے چاپلوسی کا

    ہم تو واقف نہیں اسی فن سے

    مجھ سے پہچان تیری قائم ہے

    میں تمہیں چاہتا ہوں تن من سے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    اک دھواں اٹھ رہا ہے آنگن سے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے