اک غزل اس پہ لکھوں دل کا تقاضا ہے بہت

کرشن بہاری نور

اک غزل اس پہ لکھوں دل کا تقاضا ہے بہت

کرشن بہاری نور

MORE BY کرشن بہاری نور

    اک غزل اس پہ لکھوں دل کا تقاضا ہے بہت

    ان دنوں خود سے بچھڑ جانے کا دھڑکا ہے بہت

    رات ہو دن ہو کہ غفلت ہو کہ بیداری ہو

    اس کو دیکھا تو نہیں ہے اسے سوچا ہے بہت

    تشنگی کے بھی مقامات ہیں کیا کیا یعنی

    کبھی دریا نہیں کافی کبھی قطرہ ہے بہت

    مرے ہاتھوں کی لکیروں کے اضافے ہیں گواہ

    میں نے پتھر کی طرح خود کو تراشا ہے بہت

    کوئی آیا ہے ضرور اور یہاں ٹھہرا بھی ہے

    گھر کی دہلیز پہ اے نورؔ اجالا ہے بہت

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    کرشن بہاری نور

    کرشن بہاری نور

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY