اک لمحۂ وصال تھا واپس نہ آ سکا

رئیس وارثی

اک لمحۂ وصال تھا واپس نہ آ سکا

رئیس وارثی

MORE BYرئیس وارثی

    اک لمحۂ وصال تھا واپس نہ آ سکا

    وہ وقت کی مثال تھا واپس نہ آ سکا

    ہر اک کو اپنا حال سنانے سے فائدہ

    میرا جو ہم خیال تھا واپس نہ آ سکا

    شاید مرے فراق میں گھر سے چلا تھا وہ

    زخموں سے پائمال تھا واپس نہ آ سکا

    شاید ہجوم صدمۂ فرقت کے گھاؤ سے

    وہ اس قدر نڈھال تھا واپس نہ آ سکا

    شاید میں اس کو دیکھ کے سب کو بھلا ہی دوں

    اس کو یہ احتمال تھا واپس نہ آ سکا

    کتنے خیال روپ حقیقت کا پا گئے

    جو مرکز خیال تھا واپس نہ آ سکا

    مجھ کو مرے وجود سے جو کر گیا جدا

    کیسا وہ با کمال تھا واپس نہ آ سکا

    ہر دم رئیسؔ وہ تو نظر کے ہے سامنے

    تیرا تو یہ خیال تھا واپس نہ آ سکا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY