اک مہکتے گلاب جیسا ہے

شبانہ یوسف

اک مہکتے گلاب جیسا ہے

شبانہ یوسف

MORE BY شبانہ یوسف

    اک مہکتے گلاب جیسا ہے

    خوبصورت سے خواب جیسا ہے

    میں اسے پڑھتی ہوں محبت سے

    اس کا چہرہ کتاب جیسا ہے

    بے یقینی ہی بے یقینی ہے

    ہر سمندر سراب جیسا ہے

    میں بھٹکتی ہوں کیوں اندھیروں میں

    وہ اگر آفتاب جیسا ہے

    ڈوبتی جائے زیست کی ناؤ

    ہجر لمحہ چناب جیسا ہے

    میں حقائق بیان کر دوں گی

    یہ گنہ بھی ثواب جیسا ہے

    چین ملتا ہے اس سے مل کے مگر

    چین بھی اضطراب جیسا ہے

    اب شبانہؔ مرے لیے وہ شخص

    ایک بھولے نصاب جیسا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY