اک نفس نابود سے باہر ذرا رہتا ہوں میں

ذوالفقار عادل

اک نفس نابود سے باہر ذرا رہتا ہوں میں

ذوالفقار عادل

MORE BYذوالفقار عادل

    اک نفس نابود سے باہر ذرا رہتا ہوں میں

    گمشدہ چیزوں کے اندر لاپتہ رہتا ہوں میں

    جتنی باتیں یاد آتی ہیں وہ لکھ لیتا ہوں سب

    اور پھر ایک ایک کر کے بھولتا رہتا ہوں میں

    گرم جوشی نے مجھے جھلسا دیا تھا ایک دن

    اندروں کے سرد خانے میں پڑا رہتا ہوں میں

    خرچ کر دیتا ہوں سب موجود اپنے ہاتھ سے

    اور ناموجود کی دھن میں لگا رہتا ہوں میں

    جتنی گہرائی ہے عادلؔ اتنی ہی تنہائی ہے

    بس کہ سطح زندگی پر تیرتا رہتا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY