اک روشنی کا زہر تھا جو آنکھ بھر گیا

سوہن راہی

اک روشنی کا زہر تھا جو آنکھ بھر گیا

سوہن راہی

MORE BYسوہن راہی

    اک روشنی کا زہر تھا جو آنکھ بھر گیا

    ہر دائرہ وہ سوچ کا مفلوج کر گیا

    تھی عاقبت کی خامشی تنہائیوں کی چیخ

    دنیا یہ کہہ رہی تھی مرا وقت مر گیا

    جو شہر درد میں تھا گھنی چھاؤں کا شجر

    کچھ دھوپ تھی کڑی کہ خلا میں اتر گیا

    کیا لطف تشنگی تھا مجھے کچھ خبر نہیں

    کتنے سمندروں سے میں پیاسا گزر گیا

    کر کے جو برہنہ مجھے غیروں کی بھیڑ میں

    وہ میرا درد زندگی جانے کدھر گیا

    یہ اجنبی سے لوگ یہ انجان سا جہاں

    اپنے وجود سے ہی میں شاید گزر گیا

    مآخذ:

    • کتاب : Shora-e-London (Pg. 99)
    • Author : Jauhar Zahiri
    • مطبع : Books From India (U.K) Ltd. 45, Museum Street, Londan W.C-1 (1985)
    • اشاعت : 1985

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY