اک روز ہوئے تھے کچھ اشارات خفی سے

فراق گورکھپوری

اک روز ہوئے تھے کچھ اشارات خفی سے

فراق گورکھپوری

MORE BYفراق گورکھپوری

    اک روز ہوئے تھے کچھ اشارات خفی سے

    عاشق ہیں ہم اس نرگس رعنا کے جبھی سے

    کرنے کو ہیں دور آج تو تو یہ روگ ہی جی سے

    اب رکھیں گے ہم پیار نہ تم سے نہ کسی سے

    احباب سے رکھتا ہوں کچھ امید شرافت

    رہتے ہیں خفا مجھ سے بہت لوگ اسی سے

    کہتا ہوں اسے میں تو خصوصیت پنہاں

    کچھ تم کو شکایت ہے کسی سے تو مجھی سے

    اشعار نہیں ہیں یہ مری روح کی ہے پیاس

    جاری ہوئے سرچشمے مری تشنہ لبی سے

    آنسو کو مرے کھیل تماشا نہ سمجھنا

    کٹ جاتا ہے پتھر اسی ہیرے کی کنی سے

    یاد لب جاناں ہے چراغ دل رنجور

    روشن ہے یہ گھر آج اسی لعل یمنی سے

    افلاک کی محراب ہے آئی ہوئی انگڑائی

    بے کیف کچھ آفاق کی اعضا شکنی سے

    کچھ زیر لب الفاظ کھنکتے ہیں فضا میں

    گونجی ہوئی ہے بزم تری کم سخنی سے

    آج انجمن عشق نہیں انجمن عشق

    کس درجہ کمی بزم میں ہے تیری کمی سے

    اس وادئ ویراں میں ہے سر چشمۂ دل بھی

    ہستی مری سیراب ہے آنکھوں کی نمی سے

    خود مجھ کو بھی تا دیر خبر ہو نہیں پائی

    آج آئی تری یاد اس آہستہ روی سے

    وہ ڈھونڈھنے نکلی ہے تری نکہت گیسو

    اک روز ملا تھا میں نسیم سحری سے

    سب کچھ وہ دلا دے مجھے سب کچھ وہ بنا دے

    اے دوست نہیں دور تری کم نگہی سے

    میعاد دوام و ابد اک نیند ہے اس کی

    ہم منتہیٔ جلوۂ جاناں ہیں ابھی سے

    اک دل کے سوا پاس ہمارے نہیں کچھ بھی

    جو کام ہو لے لیتے ہیں ہم لوگ اسی سے

    معلوم ہوا اور ہے اک عالم اسرار

    آئینۂ ہستی کی پریشاں نظری سے

    اس سے تو کہیں بیٹھ رہے توڑ کے اب پاؤں

    مل جائے نجات عشق کو اس در بدری سے

    رہتا ہوں فراقؔ اس لئے وارفتہ کہ دنیا

    کچھ ہوش میں آ جائے مری بے خبری سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY