اک طاق میں ہوں جیسے رکھا ہوا اکیلا

سعید اشعر

اک طاق میں ہوں جیسے رکھا ہوا اکیلا

سعید اشعر

MORE BY سعید اشعر

    اک طاق میں ہوں جیسے رکھا ہوا اکیلا

    جلتا ہوا اکیلا بجھتا ہوا اکیلا

    کب تک کرے گا مجھ میں آباد اک جہاں کو

    شاخوں میں اک پرندہ بیٹھا ہوا اکیلا

    بڑھتا رہا میں آگے ہٹتا رہا میں پیچھے

    دن بھر یوں ہی ہوا سے لڑتا ہوا اکیلا

    آنکھوں سے اس کی ٹپکا کب تک وہاں میں رہتا

    بن جاؤں گا سمندر بہتا ہوا اکیلا

    ورنہ طبیب سارے مشکل میں پڑ گئے تھے

    احباب سے بچا تو اچھا ہوا اکیلا

    یہ عشق ہے سمندر پھیلا ہوا جہاں میں

    مجھ سا ہے اک مسافر بھٹکا ہوا اکیلا

    دریا سے مل کے دریا بنتا رہا ہے قطرہ

    آنکھوں سے گر کے آنسو تارا ہوا اکیلا

    کھڑکی سے میں نے باہر دیکھا ہے اک مسافر

    دہلیز پر وہ بیٹھا بھیگا ہوا اکیلا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY