اک طلسم عجب نما ہوں میں

دتا تریہ کیفی

اک طلسم عجب نما ہوں میں

دتا تریہ کیفی

MORE BY دتا تریہ کیفی

    اک طلسم عجب نما ہوں میں

    کیا بتاؤں تمہیں کہ کیا ہوں میں

    ہے زوال اپنا اک نشان کمال

    بدو کی طرح گھٹ گیا ہوں میں

    کیا نشاں پوچھتے ہو تم میرا

    رہ گم گشتہ کا پتا ہوں میں

    ہے یہ حیرت کہ ہوں تجسم درد

    اور ہر درد کی دوا ہوں میں

    میری شہرت ہے میری گمنامی

    قوت بازوئے ہما ہوں میں

    رہ الفت میں نقش پا کی طرح

    خاک ہو ہو کے مٹ گیا ہوں میں

    ساغر عشق کر گیا بے خود

    ہوش کس کو نہیں ہوں یا ہوں میں

    خاک سمجھو تم آبرو میری

    درد اعزاز کی بہا ہوں میں

    دم غنیمت ہے سالکو میرا

    جرس دور کی صدا ہوں میں

    ہوں صراحی میں بادۂ احمر

    اور مے سرخ میں نشہ ہوں میں

    جس طرح سے کنول ہو پانی میں

    ہو کے دنیا میں پھر جدا ہوں میں

    خاکساری ہے میری جوہر ذات

    خاک میں مثل کیمیا ہوں میں

    در درج وفا کی آب ہوں میں

    دل کے آئینے کی صفا ہوں میں

    آج ہے میری دھاک عالم میں

    روشناس شہ‌ و گدا ہوں میں

    دھوم ہے فن شعر میں میری

    قمر علم کی ضیا ہوں میں

    لکھوں گر داستان رنج و الم

    دل بشکستہ کی صدا ہوں میں

    گر کروں ذکر ساز عیش و طرب

    طوطئ خلد کی نوا ہوں میں

    گر میں لکھوں بیان عرصہ رزم

    ناوک‌ ترکش قضا ہوں میں

    ایک اس نظم پر ہے کیا موقوف

    نور شمع‌‌ علوم کا ہوں میں

    قدر ہے میری قدر علم و ہنر

    کیا زمانے میں دوسرا ہوں میں

    ہوں تو سب کچھ پہ کچھ نہیں کیفیؔ

    صورت موجۂ فنا ہوں میں

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY