اک یاد کی موجودگی سہہ بھی نہیں سکتے

ساقی فاروقی

اک یاد کی موجودگی سہہ بھی نہیں سکتے

ساقی فاروقی

MORE BY ساقی فاروقی

    اک یاد کی موجودگی سہہ بھی نہیں سکتے

    یہ بات کسی اور سے کہہ بھی نہیں سکتے

    تو اپنے گہن میں ہے تو میں اپنے گہن میں

    دو چاند ہیں اک ابر میں گہ بھی نہیں سکتے

    ہم جسم ہیں اور دونوں کی بنیادیں امر ہیں

    اب کیسے بچھڑ جائیں کہ ڈھہ بھی نہیں سکتے

    دریا ہوں کسی روز معاون کی طرح مل

    یہ کیا کہ ہم اک لہر میں بہہ بھی نہیں سکتے

    خواب آئیں کہاں سے اگر آنکھیں ہوں پرانی

    اور صبح تک اس خوف میں رہ بھی نہیں سکتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY