اک یہی اب مرا حوالہ ہے

نبیل احمد نبیل

اک یہی اب مرا حوالہ ہے

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    اک یہی اب مرا حوالہ ہے

    روح زخمی ہے جسم چھالا ہے

    سیکڑوں بار سوچ کر میں نے

    تیرے سانچے میں خود کو ڈھالا ہے

    کھنچنے والا ہے آسماں سر سے

    حادثہ یہ بھی ہونے والا ہے

    اک خدا ترس موج نے مجھ کو

    ساحلوں کی طرف اچھالا ہے

    غالب آئی ہوس محبت پر

    آرزوؤں کا رنگ کالا ہے

    اک طرف جام عافیت کے ہیں

    اک طرف زہر کا ہی پیالہ ہے

    کار دنیا کی آرزو نے نبیلؔ

    مجھ کو سو الجھنوں میں ڈالا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY