اک زمیں دوز آسماں ہوں میں

ندیم سرسوی

اک زمیں دوز آسماں ہوں میں

ندیم سرسوی

MORE BYندیم سرسوی

    اک زمیں دوز آسماں ہوں میں

    ہاں مری جان بے نشاں ہوں میں

    مجھ کو توحید ہو چکی ازبر

    لا مکاں کا نیا مکاں ہوں میں

    دست قدرت کی شاہکاری کا

    خود میں آباد اک جہاں ہوں میں

    کب سے آمادہ سجدہ ریزی پر

    آب و گل ہی کے درمیاں ہوں میں

    موت سے کہیے آئے فرصت میں

    ابھی مصروف امتحاں ہوں میں

    کس طرح سے بنے زیادہ بات

    ذرۂ کن ہوں کم زباں ہوں میں

    لو سے بہتی ہوئی ضیا ہو تم

    لو سے اٹھتا ہوا دھواں ہوں میں

    جیسے تو میرا راز پنہاں ہے

    ایسے ہی تیرا رازداں ہوں میں

    جس سے لرزاں ہے پتھروں کا وجود

    آئینہ زاد وہ فغاں ہوں میں

    موت تو کب کی مر چکی لیکن

    بزم امکاں میں جاوداں ہوں میں

    تم تسلسل نئی بہاروں کا

    اور اجڑی ہوئی خزاں ہوں میں

    تیری یادوں کا اس میں دوش نہیں

    بے سبب آج نیم جاں ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY