علم و فن کا جو طلب گار نہیں ہو سکتا

ساجد صفدر

علم و فن کا جو طلب گار نہیں ہو سکتا

ساجد صفدر

MORE BYساجد صفدر

    علم و فن کا جو طلب گار نہیں ہو سکتا

    میرا دعویٰ ہے وہ فن کار نہیں ہو سکتا

    آج وہ عشق میں مرنے پہ بھی آمادہ ہے

    کل جو کہتا تھا مجھے پیار نہیں ہو سکتا

    جھوٹ بولا بھی تو معصوم کی جاں کی خاطر

    میں خطا‌ وار گنہ گار نہیں ہو سکتا

    وہ یقیناً ہے مرے ساتھ مری رگ رگ میں

    اس کا دھوکا مجھے ہر بار نہیں ہو سکتا

    مجھ کو بستی کے سبھی لوگ دعا دیتے ہیں

    میرا رستہ کبھی دشوار نہیں ہو سکتا

    جو زمیں چھوڑ دے شہرت کے لیے پل بھر میں

    وہ بلندی کا تو حق دار نہیں ہو سکتا

    میں نے رکھا ہے بھرم اپنی زباں کا ساجدؔ

    میرا لہجہ کبھی تلوار نہیں ہو سکتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY