ان لوگوں میں رہنے سے ہم بے گھر اچھے تھے

فیصل عجمی

ان لوگوں میں رہنے سے ہم بے گھر اچھے تھے

فیصل عجمی

MORE BYفیصل عجمی

    ان لوگوں میں رہنے سے ہم بے گھر اچھے تھے

    کچھ دن پہلے تک تو سب کے تیور اچھے تھے

    دیکھ رہا ہے جس حیرت سے پاگل کر دے گا

    آئینے سے ڈر لگتا ہے پتھر اچھے تھے

    نادیدہ آزار بدن کو غارت کر دے گا

    زخم جو دل میں جا اترے ہیں باہر اچھے تھے

    رات ستاروں والی تھی اور دھوپ بھرا تھا دن

    جب تک آنکھیں دیکھ رہی تھیں منظر اچھے تھے

    آخر کیوں احسان کیا ہے زندہ رکھنے کا

    ہم جو مر جاتے تو بندہ پرور اچھے تھے

    آنکھیں بھر آئی ہیں فیصلؔ ڈوب گئے ہیں لوگ

    ان میں کچھ ظالم تھے لیکن اکثر اچھے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY