انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے

افتخار عارف

انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے

افتخار عارف

MORE BY افتخار عارف

    انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے

    یہ چاہتے تھے مگر کس کے نام پر رہتے

    پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں

    ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے

    پرندے جاتے نہ جاتے پلٹ کے گھر اپنے

    پر اپنے ہم شجروں سے تو با خبر رہتے

    بس ایک خاک کا احسان ہے کہ خیر سے ہیں

    وگرنہ صورت خاشاک در بہ در رہتے

    مرے کریم جو تیری رضا مگر اس بار

    برس گزر گئے شاخوں کو بے ثمر رہتے

    RECITATIONS

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    افتخار عارف

    انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے افتخار عارف

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY