انتظار دید میں یوں آنکھ پتھرائی کہ بس

غواص قریشی

انتظار دید میں یوں آنکھ پتھرائی کہ بس

غواص قریشی

MORE BYغواص قریشی

    انتظار دید میں یوں آنکھ پتھرائی کہ بس

    مرتے مرتے وہ ہوئی عالم میں رسوائی کہ بس

    دیکھ کر شبنم کی حالت ہنس پڑی نو رس‌‌ کلی

    دو گھڑی پتوں پہ رہ کر اتنا اترائی کہ بس

    دل کی دھڑکن بڑھ گئی آنکھوں میں آنسو آ گئے

    اک ذرا سی بات پر اتنی ہنسی آئی کہ بس

    موت کو بھی مرنے والے پر ترس آ ہی گیا

    اس طرح چڑھتی جوانی میں قضا آئی کہ بس

    بات کیسی اب تو ہونٹوں پر ہے آہوں کا ہجوم

    چوٹ کھانے پر بھی ایسی چوٹ پر کھائی کہ بس

    توبہ کرنے کو تو کر لی حضرت غواصؔ نے

    یک بیک گردوں پہ وہ کالی گھٹا چھائی کہ بس

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY