اس بات کا ملال نہیں ہے کہ دل گیا

مضطر خیرآبادی

اس بات کا ملال نہیں ہے کہ دل گیا

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    اس بات کا ملال نہیں ہے کہ دل گیا

    میں اس کو دیکھتا ہوں جو بدلے میں مل گیا

    جو حسن تو نے شکل کو بخشا وہ بول اٹھا

    جو رنگ تو نے پھول میں ڈالا وہ کھل گیا

    ناکامیٔ وفا کا نمونہ ہے زندگی

    کوچے میں تیرے جو کوئی آیا خجل گیا

    قسمت کے پھوڑنے کو کوئی اور در نہ تھا

    قاصد مکان غیر کے کیوں متصل گیا

    مجھ کو مٹا کے کون سا ارماں ترا مٹا

    مجھ کو ملا کے خاک میں کیا خاک مل گیا

    مضطرؔ میں ان کے عشق میں بے موت مر گیا

    اب کیا بتاؤں جان گئی ہے کہ دل گیا

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 115)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY