اس چاند سے چہرے کو دکھا کیوں نہیں دیتے

کوکب ذکی

اس چاند سے چہرے کو دکھا کیوں نہیں دیتے

کوکب ذکی

MORE BYکوکب ذکی

    اس چاند سے چہرے کو دکھا کیوں نہیں دیتے

    حسرت یہ مرے دل کی مٹا کیوں نہیں دیتے

    خلوت میں تو کہتے ہو کہ تم جان ہو میری

    یہ بات زمانے کو بتا کیوں نہیں دیتے

    یہ بات اگر سچ ہے کہ تم پیر مغاں ہو

    اس رند کو جی بھر کے پلا کیوں نہیں دیتے

    مقصود نہیں نسل کی اصلاح اگر ہو

    اسلاف کے اوصاف بتا کیوں نہیں دیتے

    اخلاق سے کردار سے الفت سے جہاں میں

    نفرت کے اندھیروں کو مٹا کیوں نہیں دیتے

    میں ہو کے وفادار بھی ملزم ہوں جفا کا

    پھر میری وفاؤں کو بھلا کیوں نہیں دیتے

    نفرت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ذکیؔ تم

    اک شمع محبت کی جلا کیوں نہیں دیتے

    مأخذ :
    • کتاب : ضبط فغاں(شعری مجموعہ) (Pg. 110)
    • Author : کوکب ذکی
    • مطبع : وشواس پبلی کیشنز ،حیدرآباد (2016)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY