اس اہتمام سے پروانے پیشتر نہ جلے

صادق نسیم

اس اہتمام سے پروانے پیشتر نہ جلے

صادق نسیم

MORE BYصادق نسیم

    اس اہتمام سے پروانے پیشتر نہ جلے

    طواف شمع کریں اور کسی کے پر نہ جلے

    ہوا ہی ایسی چلی ہے ہر ایک سوچتا ہے

    تمام شہر جلے ایک میرا گھر نہ جلے

    ہمیں یہ دکھ کہ نمود سحر نہ دیکھ سکے

    سحر کو ہم سے شکایت کہ تا سحر نہ جلے

    چراغ شہر نہیں ہم چراغ صحرا ہیں

    کسے خبر کہ جلے اور کسے خبر نہ جلے

    تری دلیل بجا پر یہ کیسے مانا جائے

    شجر کو آگ لگے اور کوئی ثمر نہ جلے

    شعور قرب کی یہ بھی ہے اک عجب منزل

    ہم اس کو غیر کی محفل میں دیکھ کر نہ جلے

    یہ شام مرگ تمنا کی شام ہے صادقؔ

    کوئی چراغ کسی طاق چشم پر نہ جلے

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 14.08.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY