اس کی شکایت کون کرے گا دل کی وہ حالت گر نہ رہی

مختار صدیقی

اس کی شکایت کون کرے گا دل کی وہ حالت گر نہ رہی

مختار صدیقی

MORE BYمختار صدیقی

    اس کی شکایت کون کرے گا دل کی وہ حالت گر نہ رہی

    بارے تیرے تلون سے یکسانیٔ شام و سحر نہ رہی

    اپنی طرح اس وحشت گاہ میں ہر عنوان سے رسوا ہے

    جب سے فغان نیم شبی ممنون باب اثر نہ رہی

    اونچی شاخ کا پھول بھی کیا اور قربت کی مخموری کیا

    دور و قریب کی کوئی یاد بھی راحت دل بن کر نہ رہی

    جیتے رہے تو ٹھانی ہے یہ نومیدانہ زیست کریں

    اور کوئی تدبیر نہ تھی جو اب تک پیش نظر نہ رہی

    کس برتے پر باتیں بنائیں یعنی شعر شعار کریں

    رنگ زمانہ دیکھ کے ہم کو ہمت عرض ہنر نہ رہی

    مأخذ :
    • کتاب : غزل اس نے چھیڑی-6 (Pg. 197)
    • Author : فرحت احساس
    • مطبع : ریختہ بکس ،بی۔37،سیکٹر۔1،نوئیڈا،اترپردیش۔201301 (2019)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے