اس شہر کے لوگ عجیب سے ہیں اب سب ہی تمہارے اسیر ہوئے

انیس انصاری

اس شہر کے لوگ عجیب سے ہیں اب سب ہی تمہارے اسیر ہوئے

انیس انصاری

MORE BYانیس انصاری

    اس شہر کے لوگ عجیب سے ہیں اب سب ہی تمہارے اسیر ہوئے

    جب جاں پہ برستے تھے پتھر اس وقت ہمیں دلگیر ہوئے

    کچھ لوگ تمہاری آنکھوں سے کرتے ہیں طلب ہیرے موتی

    ہم صحرا صحرا ڈوب گئے اک آن میں جوگی فقیر ہوئے

    تم درد کی لذت کیا جانو کب تم نے چکھے ہیں زہر سبو

    ہم اپنے وجود کے شاہد ہیں سنگسار ہوئے شمشیر ہوئے

    یہ پہروں پہروں سوچ نگر راتوں راتوں بے خواب لہر

    پھر کیسے کٹے گا دھوپ سفر جب پیر لٹی جاگیر ہوئے

    اک عمر گزاری ہے یوں ہی سایوں کے تعاقب میں ہم نے

    ٹک بیٹھ گئے پھر چل نکلے ہنس بول لیے دلگیر ہوئے

    کچھ شہر تمہارا تنگ بھی تھا کچھ تم بھی تھے کمزور ذرا

    پتھر کی نگاہوں کے ڈر سے تم اپنے ہی گھر میں اسیر ہوئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY