اس شہر میں کہیں پہ ہمارا مکاں بھی ہو

محمد علوی

اس شہر میں کہیں پہ ہمارا مکاں بھی ہو

محمد علوی

MORE BYمحمد علوی

    اس شہر میں کہیں پہ ہمارا مکاں بھی ہو

    بازار ہے تو ہم پہ کبھی مہرباں بھی ہو

    جاگیں تو آس پاس کنارا دکھائی دے

    دریا ہو پر سکون کھلا بادباں بھی ہو

    اک دوست ایسا ہو کہ مری بات بات کو

    سچ مانتا ہو اور ذرا بد گماں بھی ہو

    رستے میں ایک پیڑ ہو تنہا کھڑا ہوا

    اور اس کی ایک شاخ پہ اک آشیاں بھی ہو

    اس سے ملے زمانہ ہوا لیکن آج بھی

    دل سے دعا نکلتی ہے خوش ہو جہاں بھی ہو

    ہم اس جگہ چلے ہیں جہاں یہ زمیں نہیں

    اچھا ہو گر وہاں پہ نیا آسماں بھی ہو

    مآخذ:

    • کتاب : Rat Idhar Udhar Roashan (Pg. 470)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY