اس تماشے کا سبب ورنہ کہاں باقی ہے

فریاد آزر

اس تماشے کا سبب ورنہ کہاں باقی ہے

فریاد آزر

MORE BY فریاد آزر

    اس تماشے کا سبب ورنہ کہاں باقی ہے

    اب بھی کچھ لوگ ہیں زندہ کہ جہاں باقی ہے

    اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف

    سانس لینے کو جہاں صرف دھواں باقی ہے

    زندگی عمر کے اس موڑ پہ پہنچی ہے جہاں

    سود ناپید ہے احساس زیاں باقی ہے

    ڈھونڈھتی رہتی ہے ہر لمحہ نگاہ دہشت

    اور کس شہر محبت میں اماں باقی ہے

    میں کبھی سود کا قائل بھی نہیں تھا لیکن

    زندگی اور بتا کتنا زیاں باقی ہے

    مار کر بھی مرے قاتل کو تسلی نہ ہوئی

    میں ہوا ختم تو کیوں نام و نشاں باقی ہے

    ایسی خوشیاں تو کتابوں میں ملیں گی شاید

    ختم اب گھر کا تصور ہے مکاں باقی ہے

    لاکھ آذرؔ رہیں تجدید غزل سے لپٹے

    آج بھی میرؔ کا انداز بیاں باقی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY