اس طرح رخ پھیرتے ہو سنتے ہی بوسے کی بات

عبدالوہاب یکروؔ

اس طرح رخ پھیرتے ہو سنتے ہی بوسے کی بات

عبدالوہاب یکروؔ

MORE BYعبدالوہاب یکروؔ

    اس طرح رخ پھیرتے ہو سنتے ہی بوسے کی بات

    شاہ معشوقاں کے آگے کیا ہے یہ ایتی بساط

    کیوں نہ دوڑے تب دوانا ہو کے مجنوں دشت کوں

    جب لکھی ہو عاشقاں کی شاخ آہو پہ برات

    جھلجھلاتی ہے مہیں جامے سیں تیرے تن کی جوت

    ماہ کا خرمن ہے اے خورشید رو تیرا یوگات

    سو گرہ تھی دل میں میرے خوشۂ انگور جوں

    ایک پیالے سیں کیا ساقی نیں حل مشکلات

    کچھ کہو یکروؔ پیا در سیں ترے ٹلتا نہیں

    بوجھتا ہے ایک یہ گھر جانتا نہیں پانچ سات

    مأخذ :
    • کتاب : diwan-e-yakro (Pg. 21)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY