اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں

زہرا نگاہ

اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں

زہرا نگاہ

MORE BYزہرا نگاہ

    اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں

    آنے والے برسوں بعد بھی آتے ہیں

    ہم نے جس رستے پر اس کو چھوڑا ہے

    پھول ابھی تک اس پر کھلتے جاتے ہیں

    دن میں کرنیں آنکھ مچولی کھیلتی ہیں

    رات گئے کچھ جگنو ملنے جاتے ہیں

    دیکھتے دیکھتے اک گھر کے رہنے والے

    اپنے اپنے خانوں میں بٹ جاتے ہیں

    دیکھو تو لگتا ہے جیسے دیکھا تھا

    سوچو تو پھر نام نہیں یاد آتے ہیں

    کیسی اچھی بات ہے زہرہؔ تیرا نام

    بچے اپنے بچوں کو بتلاتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 10.06.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY