اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیں

نظم طبا طبائی

اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیں

نظم طبا طبائی

MORE BYنظم طبا طبائی

    اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیں

    مدت سے دوستوں کی محفل کو ڈھونڈتے ہیں

    یہ دل کے پار ہو کر پھر دل کو ڈھونڈتے ہیں

    تیر نگاہ اس کے بسمل کو ڈھونڈتے ہیں

    اک لہر میں نہ تھے ہم کیوں اے حباب دیکھا

    یوں آنکھ بند کر کے ساحل کو ڈھونڈتے ہیں

    طرز کرم کی شاہد ہیں میوہ دار شاخیں

    اس طرح سر جھکا کر سائل کو ڈھونڈتے ہیں

    ہے وصل و ہجر اپنا اے قیس طرفہ مضموں

    محمل میں بیٹھے ہیں اور محمل کو ڈھونڈتے ہیں

    طول امل کا رستہ ممکن نہیں کہ طے ہو

    منزل پہ بھی پہنچ کر منزل کو ڈھونڈتے ہیں

    حسرت شباب کی ہے ایام شیب میں بھی

    معدوم کی ہوس ہے زائل کو ڈھونڈتے ہیں

    اٹھتے ہیں ولولے کچھ ہر بار درد بن کر

    کیا جانیے جگر کو یا دل کو ڈھونڈتے ہیں

    زخم جگر کا میرے ہے رشک دوستوں کو

    مرتا ہوں میں کہ یہ کیوں قاتل کو ڈھونڈتے ہیں

    اہل ہوس کی کشتی یک بام و دو ہوا ہے

    دریائے عشق میں بھی ساحل کو ڈھونڈتے ہیں

    آیا جو رحم مجھ پر اس میں بھی چال ہے کچھ

    سینہ پہ ہاتھ رکھ کر اب دل کو ڈھونڈتے ہیں

    کرتے ہیں کار فرہاد آساں زمین میں بھی

    مشکل پسند ہیں ہم مشکل کو ڈھونڈتے ہیں

    اے خضر پئے خجستہ بہر خدا کرم کر

    بھٹکے ہوئے مسافر منزل کو ڈھونڈتے ہیں

    دل خواہ تیرے عشوے دل جو ترے اشارے

    وہ دل ٹٹولتے ہیں یہ دل کو ڈھونڈتے ہیں

    اے نظمؔ کیا بتائیں حج و طواف اپنا

    کعبے میں بھی کسی کی محمل کو ڈھونڈتے ہیں

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY