اس وہم کی انتہا نہیں ہے

عزیز لکھنوی

اس وہم کی انتہا نہیں ہے

عزیز لکھنوی

MORE BYعزیز لکھنوی

    اس وہم کی انتہا نہیں ہے

    سب کچھ ہے مگر خدا نہیں ہے

    کیا اس کا سراغ کوئی پائے

    جس چیز کی ابتدا نہیں ہے

    کھلتا ہی نہیں فریب ہستی

    کچھ بھی نہیں اور کیا نہیں ہے

    اس طرح ستم وہ کر رہے ہیں

    جیسے میرا خدا نہیں ہے

    تم خوش ہو تو ہے مجھے ندامت

    ہر چند مری خطا نہیں ہے

    دیکھو تو نگاہ واپسیں کو

    اس ایک نظر میں کیا نہیں ہے

    دنیا کا بھرم نہ کھول اے آہ

    یہ راز ابھی کھلا نہیں ہے

    ہر ذرہ ہے شاہد تجلی

    اس حسن کی انتہا نہیں ہے

    سرگرم تلاش رہنے والے

    تیرا بھی کہیں پتا نہیں ہے

    امڈا ہے جو دل عزیزؔ رو لو

    آنسو کوئی روکتا نہیں ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY