اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلے

میر انیس

اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلے

میر انیس

MORE BY میر انیس

    اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلے

    ستم کے تیر چلے نیمچے قضا کے چلے

    گنہ کا بوجھ جو گردن پہ ہم اٹھا کے چلے

    خدا کے آگے خجالت سے سر جھکا کے چلے

    طلب سے عار ہے اللہ سے فقیروں کو

    کہیں جو ہو گیا پھیرا صدا سنا کے چلے

    پکارے کہتی تھی حسرت سے نعش عاشق کی

    صنم کدھر کو ہمیں خاک میں ملا کے چلے

    مثال ماہیٔ بے آب موجیں تڑپا کیں

    حباب پھوٹ کے روئے جو تم نہا کے چلے

    مقام یوں ہوا اس کارگاہ دنیا میں

    کہ جیسے دن کو مسافر سرا میں آ کے چلے

    کسی کا دل نہ کیا ہم نے پائمال کبھی

    چلے جو راہ تو چیونٹی کو بھی بچا کے چلے

    ملا جنہیں انہیں افتادگی سے اوج ملا

    انہیں نے کھائی ہے ٹھوکر جو سر اٹھا کے چلے

    انیسؔ دم کا بھروسہ نہیں ٹھہر جاؤ

    چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے

    مآخذ:

    • کتاب : Ghazal Usne Chhedi(3) (Pg. 96)
    • Author : Farhat Ehsas
    • مطبع : Rekhta Books (2017)
    • اشاعت : 2017

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY