عشق کا اختتام کرتے ہیں

وزیر علی صبا لکھنؤی

عشق کا اختتام کرتے ہیں

وزیر علی صبا لکھنؤی

MORE BYوزیر علی صبا لکھنؤی

    عشق کا اختتام کرتے ہیں

    دل کا قصہ تمام کرتے ہیں

    قہر ہے قتل عام کرتے ہیں

    ترک ترکی تمام کرتے ہیں

    طاق ابرو سے ان کے در گزرے

    ہم یہیں سے سلام کرتے ہیں

    شیخ اس سے پناہ مانگتے ہیں

    برہمن رام رام کرتے ہیں

    جوہری پر ترے در دنداں

    آب و دانہ حرام کرتے ہیں

    خط قسمت پڑھا نہیں جاتا

    صرف منطق تمام کرتے ہیں

    یا الٰہی حلال ہوں واعظ

    دخت رز حرام کرتے ہیں

    آپ کی منہ لگی ہے دختر رز

    باتیں ہونٹوں سے جام کرتے ہیں

    چلی دنیا سے ہم پئے عقبیٰ

    کوچ بھر مقام کرتے ہیں

    اپنے دل پر ہے اختیار ہمیں

    ملک کا انتظام کرتے ہیں

    قابل گفتگو رقیب نہیں

    آپ کس سے کلام کرتے ہیں

    رات بھر میرے نالۂ پر درد

    نیند ان کی حرام کرتے ہیں

    ظلم ہی احمقوں کی منہ زوری

    تنگ یہ بے لگام کرتے ہیں

    دل سے رنگ دوئی مٹاتے ہیں

    زخم کا التیام کرتے ہیں

    اے صباؔ کیوں کسی کا دل توڑیں

    کعبے کا احترام کرتے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے