عشق کا روگ تو ورثے میں ملا تھا مجھ کو

بھارت بھوشن پنت

عشق کا روگ تو ورثے میں ملا تھا مجھ کو

بھارت بھوشن پنت

MORE BYبھارت بھوشن پنت

    عشق کا روگ تو ورثے میں ملا تھا مجھ کو

    دل دھڑکتا ہوا سینے میں ملا تھا مجھ کو

    ہاں یہ کافر اسی حجرے میں ملا تھا مجھ کو

    ایک مومن جہاں سجدے میں ملا تھا مجھ کو

    اس کو بھی میری طرح اپنی وفا پر تھا یقیں

    وہ بھی شاید اسی دھوکے میں ملا تھا مجھ کو

    اس نے ہی بزم کے آداب سکھائے تھے مجھے

    وہ جو اک شخص اکیلے میں ملا تھا مجھ کو

    منزل ہوش پہ اک میں ہی نہیں تھا تنہا

    یاں تو ہر شخص ہی نشے میں ملا تھا مجھ کو

    یہ بھی اک عیب تھا میری ہی نظر کا شاید

    روز کچھ فرق سا چہرے میں ملا تھا مجھ کو

    ایسے حالات میں کیا اس سے گلا کرتا میں

    رات سورج بھی اندھیرے میں ملا تھا مجھ کو

    میں اگر ڈوب نہ جاتا تو وہاں کیا کرتا

    اک سمندر تھا جو قطرے میں ملا تھا مجھ کو

    روح کی پیاس بجھانا کوئی آسان نہ تھا

    صاف پانی بڑے گہرے میں ملا تھا مجھ کو

    سچ تو یہ ہے کہ یہاں کوئی بھی منزل ہی نہ تھی

    وہ بھی رستہ تھا جو رستے میں ملا تھا مجھ کو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY