عشق کے آثار ہیں پھر غش مجھے آیا دیکھو

بیدم شاہ وارثی

عشق کے آثار ہیں پھر غش مجھے آیا دیکھو

بیدم شاہ وارثی

MORE BYبیدم شاہ وارثی

    عشق کے آثار ہیں پھر غش مجھے آیا دیکھو

    پھر کوئی روزن دیوار سے جھانکا دیکھو

    ان کے ملنے کی تمنا میں مٹا جاتا ہوں

    نئی دنیا ہے مرے شوق کی دنیا دیکھو

    طور پر ہی نہیں نظارۂ جاناں موقوف

    دیکھنا ہو تو وہ موجود ہے ہر جا دیکھو

    اثر نالۂ عاشق نہیں دیکھا تم نے

    تھام لو دل کو سنبھل بیٹھو اب اچھا دیکھو

    طور مجنوں کی نگاہوں کے بتاتے ہیں ہمیں

    اسی لیلیٰ میں ہے اک دوسری لیلیٰ دیکھو

    پرتو مہر سے معمور ہے ذرہ ذرہ

    لہریں لیتا ہے ہر اک قطرہ میں دریا دیکھو

    دور ہو جائیں جو آنکھوں سے حجابات دوئی

    پھر تو دل ہی میں دو عالم کا تماشا دیکھو

    سب میں ڈھونڈا انہیں اور کی تو نہ کی دل میں تلاش

    نظر شوق کہاں کھائی ہے دھوکا دیکھو

    نہیں تھمتے نہیں تھمتے مرے آنسو بیدمؔ

    راز دل ان پہ ہوا جاتا ہے افشا دیکھو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے