عشق کی مایوسیوں میں سوز پنہاں کچھ نہیں

فراق گورکھپوری

عشق کی مایوسیوں میں سوز پنہاں کچھ نہیں

فراق گورکھپوری

MORE BYفراق گورکھپوری

    عشق کی مایوسیوں میں سوز پنہاں کچھ نہیں

    اس ہوا میں یہ چراغ زیر داماں کچھ نہیں

    کیا ہے دیکھو حسرت سیر گلستاں کچھ نہیں

    کچھ نہیں اے ساکنان کنج زنداں کچھ نہیں

    عشق کی ہے خود نمائی عشق کی آشفتگی

    روئے تاباں کچھ نہیں زلف پریشاں کچھ نہیں

    یاد آ ہی جاتی ہے اکثر دل برباد کی

    یوں تو سچ ہے چند ذرات پریشاں کچھ نہیں

    سچ ہے جو کچھ بھی ہے وہ ہے گرمیٔ بازار حسن

    اہل دل کا سوز پنہاں کچھ نہیں ہاں کچھ نہیں

    اور ان کی زندگی ہے اور عنوان حیات

    خود فراموشوں کو تیرے عہد و پیماں کچھ نہیں

    ایک ہو جائے نہ جب تک سرحد ہوش و جنوں

    ایک ہو کر چاک دامان و گریباں کچھ نہیں

    جو نہ ہو جائے وہ کم ہے جو بھی ہو جائے بہت

    کارزار عشق میں دشوار و آساں کچھ نہیں

    دیکھنی تھی دیکھ لی اس چھیڑ کی بھی سادگی

    بے دلوں میں یہ تبسم ہائے پنہاں کچھ نہیں

    کاش اپنے درد سے بیتاب ہوتے اے فراقؔ

    دوسرے کے ہاتھوں یہ حال پریشاں کچھ نہیں

    RECITATIONS

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    عشق کی مایوسیوں میں سوز پنہاں کچھ نہیں خالد مبشر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY