عشق کی ٹیسیں جو مضراب رگ جاں ہو گئیں

مجید امجد

عشق کی ٹیسیں جو مضراب رگ جاں ہو گئیں

مجید امجد

MORE BY مجید امجد

    عشق کی ٹیسیں جو مضراب رگ جاں ہو گئیں

    روح کی مدہوش بے داری کا ساماں ہو گئیں

    پیار کی میٹھی نظر سے تو نے جب دیکھا مجھے

    تلخیاں سب زندگی کی لطف ساماں ہو گئیں

    اب لب رنگیں پہ نوریں مسکراہٹ کیا کہوں

    بجلیاں گویا شفق زاروں میں رقصاں ہو گئیں

    ماجرائے شوق کی بے باکیاں ان پر نثار

    ہائے وہ آنکھیں جو ضبط غم میں گریاں ہو گئیں

    چھا گئیں دشواریوں پر میری سہل انگاریاں

    مشکلوں کا اک خیال آیا کہ آساں ہو گئیں

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyaat-e-majiid Amjad (Pg. 194)
    • Author : Majiid Amjad
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY