عشق کو بے نقاب ہونا تھا

جگر مراد آبادی

عشق کو بے نقاب ہونا تھا

جگر مراد آبادی

MORE BYجگر مراد آبادی

    عشق کو بے نقاب ہونا تھا

    آپ اپنا جواب ہونا تھا

    مست جام شراب ہونا تھا

    بے خود اضطراب ہونا تھا

    تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں

    ہاں مجھی کو خراب ہونا تھا

    آؤ مل جاؤ مسکرا کے گلے

    ہو چکا جو عتاب ہونا تھا

    کوچۂ عشق میں نکل آیا

    جس کو خانہ خراب ہونا تھا

    مست جام شراب خاک ہوتے

    غرق جام شراب ہونا تھا

    دل کہ جس پر ہیں نقش رنگارنگ

    اس کو سادہ کتاب ہونا تھا

    ہم نے ناکامیوں کو ڈھونڈ لیا

    آخرش کامیاب ہونا تھا

    ہائے وہ لمحۂ سکوں کہ جسے

    محشر اضطراب ہونا تھا

    نگۂ یار خود تڑپ اٹھتی

    شرط اول خراب ہونا تھا

    کیوں نہ ہوتا ستم بھی بے پایاں

    کرم بے حساب ہونا تھا

    کیوں نظر حیرتوں میں ڈوب گئی

    موج صد اضطراب ہونا تھا

    ہو چکا روز اولیں ہی جگرؔ

    جس کو جتنا خراب ہونا تھا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    فہد حسین

    فہد حسین

    نعمان شوق

    عشق کو بے نقاب ہونا تھا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY